حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، موجودہ دور میں حوزاتِ علمیہ اور دینی اداروں کو نئے فکری، ثقافتی اور ابلاغی چیلنجز کا سامنا ہے۔ سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی نے جہاں دینی پیغام کی ترویج کے نئے مواقع فراہم کیے ہیں، وہیں نوجوان نسل کے فکری مسائل اور مختلف شبہات نے علماء اور دینی مراکز کی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ کیا ہے۔ اسی طرح ہند و پاک کے حوزات علمیہ کی صورتحال، حوزۂ نجف اور قم کے علمی روابط، معارفِ اہل بیتؑ کی ترویج اور مذہبی ہم آہنگی جیسے اہم موضوعات بھی خصوصی توجہ کے متقاضی ہیں۔
ان ہی موضوعات پر حوزہ نیوز ایجنسی نے آیت اللہ العظمیٰ حافظ بشیر حسین نجفی کے فرزند اور مرکزی دفتر کے مدیر، حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ علی نجفی سے گفتگو کی، جس میں انہوں نے حوزاتِ علمیہ کی موجودہ ذمہ داریوں، ہند و پاک کے دینی مدارس کے کردار اور مستقبل کی ضروریات کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
مکمل انٹرویو حسب ذیل ہے:
سوال 1: موجودہ دور میں مرجعیتِ دینیہ کی خدمات کے تناظر میں آیت اللہ العظمیٰ حافظ بشیر حسین نجفی کی علمی و دینی خدمات کی نمایاں خصوصیات کو آپ کس انداز سے بیان کریں گے؟
حجۃ الاسلام شیخ علی نجفی: سچائی یہ ہے کہ آیت اللہ العظمیٰ حافظ بشیر حسین نجفی نے اپنی ذاتی اور اجتماعی زندگی میں علم کی خدمت کے لیے بہت زیادہ جدوجہد کی اور اپنی زندگی کا ایک اہم حصہ علمی خدمات کے لیے وقف کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں علمِ اصول، تفسیر اور طلبہ کی تربیت کے میدان میں نمایاں مقام عطا فرمایا۔
انہوں نے طلاب کی علمی تربیت پر خاص توجہ دی۔ ان کا درسِ خارج محض ایک یک طرفہ درس نہیں تھا، بلکہ اس میں طلبہ کے ساتھ بحث، سوال و جواب اور علمی گفتگو ہوتی تھی، تاکہ طلبہ کی علمی سطح بلند ہو۔
اس کے علاوہ عراق میں ظالم حکومت کے دور کے واقعات، بالخصوص 1991ء کے واقعات اور تحریکِ شعبانیہ کے بعد بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ مرجعِ وقت کی وفات کے بعد انہوں نے کتابوں کی اشاعت، اساتذہ کی فراہمی اور مدارس کی تعمیر و مرمت کے ذریعے حوزۂ علمیہ کی سرگرمیوں کو دوبارہ مضبوط کیا۔ یہ کام اللہ تعالیٰ کے فضل، قربانیوں اور شہیدوں کے خون کی بدولت کئی سال تک جاری رہا، جبکہ انہیں قتل کی کوششوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے حوزۂ علمیہ کو استحکام عطا کیا اور وہ آج جس مقام تک پہنچا ہے، وہاں تک ترقی کی۔
سوال 2: حوزۂ علمیہ نجف اشرف کی علمی و فکری خصوصیات کیا ہیں؟ عصر حاضر کے تقاضوں، جدید فکری شبہات، سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت جیسے چیلنجز کے مقابلے میں حوزاتِ علمیہ کا کیا کردار ہونا چاہیے؟
حجۃ الاسلام شیخ علی نجفی:حوزۂ علمیہ نجف اشرف کی سب سے نمایاں علمی و فکری خصوصیات میں فکری آزادی اور علمی طریقۂ کار کی آزادی شامل ہے۔ جو شخص کسی بھی علمی میدان میں آگے بڑھنا چاہتا ہے، اسے اس میدان میں کوشش کرنے کا موقع حاصل ہوتا ہے اور کامیابی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔
آج حوزاتِ علمیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ باہمی تعاون، اتحاد، افکار، تجربات، صلاحیتوں اور وسائل کے تبادلے کے ذریعے ایک مشترکہ کوشش کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ دین اور مذہب کے خلاف درپیش چیلنجز کا مقابلہ کسی ایک فرد یا ادارے کا کام نہیں، بلکہ اس کے لیے متحدہ اور منظم کوشش ضروری ہے۔
اسی سلسلے میں مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید ذرائع سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ ان ذرائع کے ذریعے معلومات کو جمع کرنے، ان کی درجہ بندی کرنے، بہتر انداز میں استعمال کرنے اور کام کو آسان بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس میدان میں کام کرنا آج ایک ضروری اور فوری ضرورت ہے۔
سوال 3: آپ کی نظر میں ہند و پاک کے دینی مدارس نے تشیع کی علمی و دینی تربیت میں کیا کردار ادا کیا ہے؟ موجودہ دور میں ان مدارس کو کن بنیادی چیلنجز کا سامنا ہے اور ان کی بہتری کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں؟
حجۃ الاسلام شیخ علی نجفی: ہندوستان اور پاکستان کے دینی مدارس اور علمی مراکز نے بہت اہم، بلکہ بنیادی کردار ادا کیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کردار کو مزید کئی گنا بڑھانے کی ضرورت ہے۔
اس سلسلے میں دینی اداروں، علماء، عام مؤمنین، اہلِ خیر، نجف اشرف کے مراجع اور دنیا کے مختلف حوزاتِ علمیہ کو مل کر برصغیر کے دینی مدارس اور علمی مراکز کی خدمت اور سرپرستی کرنی چاہیے۔
ان مدارس کو مالی اور علمی دونوں طرح کے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس لیے ضرورت ہے کہ ہندوستان اور پاکستان میں اعلیٰ درجے کے قابل اور تجربہ کار اساتذہ بھیجے جائیں، تاکہ وہ وہاں حوزات کو مضبوط بنانے اور ان کے تعلیمی نظام کو بہتر کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
اس کے ساتھ ساتھ باہمی رابطہ اور تعاون بڑھانا، اہداف کا تعین کرنا، ترجیحات طے کرنا اور ان کے مطابق عملی اقدامات کرنا بھی ضروری ہے۔ اسی منظم کوشش کے ذریعے ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔

سوال 4: قم اور نجف کے حوزاتِ علمیہ کے درمیان علمی و تحقیقی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں؟
حجۃ الاسلام شیخ علی نجفی: حوزۂ نجف اور حوزۂ قم کے درمیان علمی و تحقیقی روابط پہلے سے موجود ہیں۔ علماء اور طلبہ کے درمیان رابطہ، کتابوں کا تبادلہ اور ایک دوسرے سے استفادہ بھی جاری ہے، الحمدللہ۔
تاہم ان روابط کو مزید مضبوط اور وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ علمی و تحقیقی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے اور دونوں حوزات کے درمیان مزید مضبوط اور مستقل تعاون ہونا چاہیے، تاکہ تمام فریق ایک دوسرے کے تجربات اور علمی صلاحیتوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں۔
سوال 5: آج نوجوان نسل کو درپیش فکری، ثقافتی اور سوشل میڈیا کے چیلنجز کے پیش نظر علماء اور دینی مدارس کی کیا ذمہ داریاں ہیں؟ نوجوانوں کو دین کی طرف راغب کرنے کے لیے کون سی حکمت عملی مؤثر ثابت ہو سکتی ہے؟
حجۃ الاسلام شیخ علی نجفی: نوجوانوں کو درپیش فکری، ثقافتی اور ابلاغی چیلنجز کے مقابلے میں علماء اور حوزاتِ علمیہ کی ذمہ داری بہت بڑی ہے۔ اس ذمہ داری کا ایک اہم حصہ یہ ہے کہ نوجوانوں کے مسائل کو سمجھا جائے اور ان کے سوالات کے مناسب جواب دیے جائیں۔
ایسی نسل اور ایسے افراد تیار کرنے کی ضرورت ہے جو حوزہ اور دینی اداروں اور معاشرے کے درمیان رابطے کا ذریعہ بن سکیں، جو آج کے دور کی زبان سمجھتے ہوں، دین کی مؤثر انداز میں تبلیغ کر سکتے ہوں اور جدید ذرائع کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
آج صرف روایتی انداز میں بات کرنا کافی نہیں ہے۔ ہمیں اپنی تمام انسانی صلاحیتوں اور جدید الیکٹرانک وسائل کو استعمال کرنا ہوگا۔ ایسے باصلاحیت، فعال اور ذہین مؤمن نوجوانوں کو آگے لانا چاہیے جو تبلیغ کی صلاحیت رکھتے ہیں اور انہیں باقاعدہ تبلیغی کارکنوں کے طور پر تیار کرنا چاہیے۔
اسی طرح مراجع کے دفاتر، دینی اداروں اور علماء کے ذمہ دار افراد کو بھی جدید ذرائع اور ان کے استعمال سے واقف ہونا چاہیے، تاکہ ان سے بہترین انداز میں فائدہ اٹھایا جا سکے۔
سوال 6: معارفِ اہل بیتؑ کی حفاظت، ترویج اور دنیا تک پہنچانے میں حوزہ ہائے علمیہ کا بنیادی کردار کیا ہے؟
حجۃ الاسلام شیخ علی نجفی: حوزاتِ علمیہ کی بنیادی ذمہ داری معارفِ اہل بیتؑ کی حفاظت، ان کی ترویج اور دنیا کے مختلف حصوں تک ان کی صحیح تعلیمات پہنچانا ہے۔
یہ کام مختلف ذرائع سے انجام دیا جا سکتا ہے؛ دینی نمائندوں کے ذریعے، ویب سائٹس اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اور دنیا کے مختلف علاقوں میں عملی طور پر موجود رہ کر۔
اسی طرح مختلف ممالک سے طلبۂ علم کو حوزاتِ علمیہ میں لانا، انہیں تعلیم و تربیت دینا اور پھر ان کے اپنے ممالک میں واپس بھیجنا بھی اس سلسلے کی ایک اہم ذمہ داری ہے، تاکہ وہ وہاں معارفِ اہل بیتؑ کو آگے پہنچانے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
سوال 7: پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی، اتحادِ امت اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے علماء اور دینی مدارس کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟ موجودہ ملکی حالات میں دینی قیادت کی ترجیحات کیا ہونی چاہییں؟
حجۃ الاسلام شیخ علی نجفی: موجودہ حالات میں پاکستان کے علماء اور دینی مدارس مذہبی ہم آہنگی، مسلمانوں کے اتحاد اور انتہا پسندی کے خاتمے میں بڑا اور بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ہمارے تجربے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بہت سے لوگوں کا کسی مذہب یا مکتبِ فکر کے بارے میں منفی رویہ اس لیے ہوتا ہے کہ وہ اسے صحیح طور پر جانتے ہی نہیں۔ بہت سے لوگ شیعہ مسلمانوں کے عقائد، ان کے طرزِ زندگی اور اخلاق سے واقف نہیں ہیں۔
ہمیں اپنے اخلاق و کردار کے ذریعے اہل بیتؑ کی تعلیمات کی نمائندگی کرنی چاہیے۔ اگر لوگ محمد و آل محمدؐ کی تعلیمات اور ان کے خوبصورت اخلاق سے واقف ہوں اور ہم بھی معصومینؑ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے انہیں اپنے کردار میں پیش کریں تو اس کے بہت اچھے نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
روایت میں ہے کہ لوگوں کو ہماری احادیث سکھاؤ، اگر وہ ہمای حدیث کے محاسن پہچان لیں گے تو ہماری پیروی کریں گے۔
لہٰذا دنیا کے مختلف علاقوں میں حوزات اور علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ محمد و آل محمدؐ کی تعلیمات کو مناسب اور حکمت بھرے انداز میں لوگوں تک پہنچائیں، جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے: «ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ»۔
اس کے ساتھ مثبت اور انسانی بنیادوں پر دوسروں کے ساتھ رہنا بھی ضروری ہے۔ رسول اکرمؐ نے اپنے اخلاق اور حسنِ سلوک کے ذریعے دنیا کو متاثر کیا۔ اسی طرح ہمیں بھی ایسے افراد تیار کرنے چاہییں جو دوسرے معاشروں میں رہ کر ان کے ساتھ اچھا تعلق قائم کر سکیں۔
مختلف مکاتبِ فکر، مذاہب اور بالخصوص باشعور اور حقیقت پسند افراد کو اہل بیتؑ کے مکتب سے واقف کرانے کی کوشش ہونی چاہیے۔ تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ اس طرح کا مثبت میل جول اور باہمی تعارف بہت مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
سوال 8: آیت اللہ العظمیٰ حافظ بشیر حسین نجفی کے طویل حوزوی تجربے کی روشنی میں علماء، دینی مدارس کے منتظمین، اساتذہ اور طلبہ، بالخصوص نوجوان نسل کے لیے آپ کا کیا پیغام ہے اور مستقبل کے لیے آپ کی کیا توقعات ہیں؟
حجۃ الاسلام شیخ علی نجفی: آیت اللہ العظمیٰ حافظ بشیر حسین نجفی کے طویل حوزوی تجربے کی روشنی میں میری نظر میں سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ حوزۂ علمیہ میں داخل ہونے والا ہر طالب علم اپنے مقصد کو واضح کرے۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ حوزہ میں کیوں داخل ہو رہا ہے اور مستقبل میں کیا بننا چاہتا ہے۔
کیا وہ جامع الشرائط فقیہ بننا چاہتا ہے؟ کیا وہ محقق فقیہ بننا چاہتا ہے؟ کیا وہ کسی خاص علمی میدان میں مہارت حاصل کرنا چاہتا ہے یا صرف دین کی سمجھ حاصل کرنا چاہتا ہے؟ ان تمام مقاصد کے لیے طریقۂ تعلیم اور تربیت ایک جیسا نہیں ہو سکتا۔ اس لیے یہ ایک اہم اور بنیادی معاملہ ہے کہ ہر مقصد کے مطابق الگ تعلیمی طریقہ اور نصاب وضع کیا جائے۔
دوسری اہم بات دعوت اور دینی تبلیغ کا مسئلہ ہے۔ ہم علماء اور دینی افراد پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے اپنے کردار کے ذریعے محمد و آل محمدؐ کے دین کا عملی نمونہ پیش کریں۔ صرف دین کے بارے میں گفتگو کافی نہیں، بلکہ ہمارے اخلاق، کردار، برتاؤ اور لوگوں کے ساتھ ہمارا تعلق بھی دین کی حقیقی تصویر پیش کرنے والا ہونا چاہیے۔









آپ کا تبصرہ